دلچسپ قصّہ مختصر

یاجوج ماجوج فتنہ کہ متعلق اسلامی تصور

یاجوج اور ماجوج حضرت نوح علیہ اسلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں. یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے ارد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے. قران مجید کی آیت، توریت کے مطا لعے اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کے یہ لوگ شمال مشرقی ایشیاء میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کر دیتے. بعض تاریخ دنوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبلینسن کے آس پاس بتلایا ہے. اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج اور ماجوج تبت اور چین سے بحر منجمد شمال تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوۓ ہیں.

Yajooj Majooj in Urdu

یاجوج اور ماجوج یہ دو عجیب نام اصل میں دو الگ الگ نام ہیں ایک یاجوج اور دوسرا ماجوج. عربی زبان میں یہ لفظ یاجوج و ماجوج ایک نا پسندیدہ اور فحش لفظ ہے. اس لفظ کی جڑیں ‘اوجاج’ سے نکلی ہیں جس کا مطلب ہے ‘خشک ہونا’ یا ‘سخت ہونا’ . یہ ایک اور لفظ ‘الج’ سے بھی نکلا ہے جس کا مطلب ہے کے جب دشمن تیزی کے ساتھ آپ پر حملہ کر دیں تو اس لئے یہ یاجوج اور ماجوج فطرتا سخت اورکھردرے ہیں اور جب یہ نکلیں گے تو یہ اتنی تیزی کے ساتھ نکلیں گے کہ کوئی بھی ان کے آگے کھڑا نہیں ہو پائے گا اور سب انھیں دیکھ کے بھاگ کھڑے ہوں گے.

یہ وہ باتیں ہیں کہ جن کا مطلب علماء ہمیں بتاتے ہیں. یاجوج ایک قبیلہ ہے اور ماجوج دوسرا قبیلہ لیکن دونوں میں مماثلت ہے اور یہ حقیقت میں انسان ہیں. یاجوج و ماجوج کے قبیلے اس دنیا میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے زمانے سے موجود ہیں. یہ ایک عظیم بادشاہ ذوالقرنین کے زمانے میں موجود تھے. ذوالقرنین جسے دو سینگوں والا انسان بھی کہا جاتا تھا کیوں کہ اس کے سر پر دو سینگوں والی ٹوپی ہوتی تھی. ذوالقرنین اس وقت کا انتہائی طاقتور بادشاہ تھا اور ایک الله کی عبادت کرنے والا متقی اور پرہیز گار انسان تھا. اسکو الله نے اتنی طاقت اور صاحب اختیار بنایا تھا کہ اسکی سلطنت تقریبا تمام دنیا تک پھیلی تھی. یہاں تقریبااس لئے کہا کیوں کہ اس وقت دنیا میں ایسے مقامات موجود تھے کہ جہاں انسانی تہذیب ابھی نہیں پہنچی تھی. پوری دنیا کا چکر لگاتے، لوگوں کو الله کی وحدانیت کا درس دیتےذوالقرنین انصاف کا بول بالا کرتے ایک ایسی جگہ پہنچا جس کا ذکر الله قرآن میں یوں بیان فرماتا ہے:

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان میں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں جوکہ بات کو سمجھ نہیں سکتے. ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں. بھلا ہم آپ کے لئے خرچ کا انتظام کر دیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دیں. ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدار خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے. تم مجھے قوت بازو سے مدد دومیں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا تو تم لوہے کے بڑے بڑے تختے لاؤ. چنانچہ کام جاری کر دیا گیا یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصّہ برابر کر دیا اور کہا اب اسے دھونکو یہاں تک کہ جب اسے دھونک دھونک کر آگ کر دیا تو کہا کہ اب میرے پاس تانبا لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دو پھر ان میں یہ قدرت نا رہی کہ اس پے چڑھ سکیں اور نا یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں. بولا کہ یہ میرے پروردگارکی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آ پہنچے گا تو اس کو ڈھا کے ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے.اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے یہ روۓ زمین پر پھیل کرایک دوسرے میں گھس جاییں گے پھر سور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کر لیں گے.”

عیسائیت میں دو بیانات کا ذکر ہے وہاں پہنچ کر ذوالقرنین نے لوگوں کا مجمع دیکھا. ذوالقرنین جہاں پہنچا تھا اسے دنیا کا آخری کونہ کہا جاتا ہے مطلب کہ وہاں سے آگے کوئی زمین نہیں تھی. اورعیسائیت میں بھی اس بات کی طرف نشاندھی کی گئی کہ اس سے آگے انسانی تہذیب کا نام و نشان بھی نہیں تھا. وہاں پہنچ کر ذوالقرنین نے دو پہاڑیوں کے درمیان ایک راستہ دریافت کیا اور وہاں کچھ لوگوں کو پایا جو کہ اس کے ساتھ بول نہیں سکتے تھے یعنی انکی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے تب انہوں نے اشاروں کی زبان سے ذوالقرنین کو سمجھایا کہ یاجوج و ماجوج اس دنیا میں شر اور فساد قائم کر رہے ہیں کیا آپ ہماری مدد کریں گے؟ اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہ قبیلہ اور یاجوج ماجوج کے قبیلے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے. یہ لوگ جوذوالقرنین کویاجوج اورماجوج کے بارے میں سمجھا رہے تھے وو اپنی زبان اور رہن سہن کے طریقوں میں ایک قدیم قوم تھے اور وہ انھیں ایک ایسی قوم کے بارے میں سمجھا رہے تھے کہ جو ان سے بھی بدتر تھی اس کے علاوہ قران مجید میں ایک اور مقام پر بھی یاجوج اور ماجوج کا ذکر کرتے ہوے الله تعالیٰ فرماتا ہے:

” یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دئیے جائیں اوروہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں.”

الله اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ذوالقرنین نے ایک دیوار قائم کی کہ جو انتہائی مضبوط تھی کہ کوئی بھی اس تک پہنچ نہیں سکتا اور نہ کوئی اسے توڑ سکتا. اس دیوار کو دیکھ کر ذوالقرنین سجدے میں گر گئے اور الله کا شکر ادا کیا اور پھر کہا کہ آخری زمانے میں اس دیوار کو الله ریزہ ریزہ کر دے گا کہ جس کو اس وقت دنیا کی کوئی طاقت، کوئی ہتھیار، کوئی ٹیکنالوجی گرا نہیں سکتی. ایک خاص وقت آئےگا جب یاجوج و ماجوج اس دیوار کے ختم ہونے سے اس دنیا پر حملہ کریں گے. مختلف تفاسیر میں اس دیوار کا ذکر ملتا ہے کہ یہ کہاں پر واقع ہے. کچھ تفاسیر میں یہ دیوار قطب شمالی کی طرف واقع ہے. بے شک اس کے بارے میں الله کو صحیح علم ہے.

ذوالقرنین اور صد ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم کی سوره کہف میں بھی ہے. جس ذوالقرنین کا ذکر قرآن میں ہے تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے. تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف راے پائی جاتی ہے. تاریخ کی کتابوں کے مطا لعےکے بعد ذوالقرنین کی شخصیت اور صد ذوالقرنین کے متعلق مختلف اندازے لگائے. بہت سے قدیم علماء اور مفکر سکندر اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے مگر بعض اس کا انکار کر کے یہ دلیل پیش کرتے کہ ذوالقرنین در اصل حضرت سلیمان علیہ اسلام کا ہی خطاب تھا . جدید زمانے کے کچھ مفسراور مفکر ذوالقرنین کو قدیم ایرانی بادشاہ سائرس اعظم یعنی قورش اعظم کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں. اور یہ نسبتا زیادہ قرین قیاس تھے مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصدق نہیں ٹھہرایا جا سکتا. رہی بات کہ صد ذوالقرنین کہاں واقع ہے تو اس میں بھی اختلاف ہے کیوں کہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوارمیں جنگجو قوموں کے حملوں سے بچاؤ کی خاطربنوائی تھیں.

ان میں سے سب سے زیادہ مشہور دیوار چین ہے جس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے اور ابھی تک موجود ہے.لیکن واضح رہے کہ دیوار چین لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درہ میں ہے وہ ایک عام مصالےسے بنی ہوئی دیوار ہے بعض کا اسرار ہے کہ یہ وہی دیوار مارن ہے کہ جو یمن میں ہے یہ ٹھیک ہے کہ دیوار مارن ایک کوہستانی درہ میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کے لئیے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں. جبکہ علماء و محققین کی گواہی کے مطابق سر زمین کفقاز میں دریا خضر اور دریا سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے. اس میں ایک دیوار کی طرح کا درہ بھی موجود ہے جو مشہوردرہ داریال ہے. یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے اسی بنا پربہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوار ذوالقرنین یہی ہے. اگرچہ صد ذوالقرنین بڑی مضبوط بنائی گئی ہے جس کے اوپر چڑھ کریا اس میں سوراخ کر کے یاجوج و ماجوج کا ادھر آنا ممکن نہیں لیکن جب الله کا وعدہ پورا ہوگا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دیں گے. اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا ہے.

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی پرسرار شیطانی کتاب ڈیولز بائبل یا شیطان کی کتاب

ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج و ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کے لئیے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب الله کی منشا کے مطابق ان کے خرروج کا دن ہو گا تو پھر وہ کہیں گے کل انشا الله اس کو کھودیں گے اور پھر اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور زمین میں فساد اور فتنہ پھیلائیں گے یعنی انسانوں کو بھی کھانے سے گریز نہیں کریں گے تو الله کی طرف سے حضرت عیسی علیہ اسلام کو حکم ہو گا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کریں کیوں کہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ہو گا. حضرت عیسی علیہ اسلام اور ان کے ساتھی اس وقت ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت ہو گی پھر لوگوں کی درخواست پر حضرت عیسی علیہ اسلام یاجوج ماجوج کے لئیے بد دعا فرمایں گے. پس الله ان کی گردن اور کانوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جو بعد میں کورا بن جائے گا جس کے پھٹنےسے یہ ہلاک ہونا شروع ہوجائیں گے. سب کے سب مر جاییں گے انکی لاشوں سے ایک بالشت زمین بھی خالی نا ہو گی اور ہر طرف ان کی لاشوں کی گندی بو پھیل جائے گی پھر حضرت عیسی علیہ اسلام دعا کریں گے پھر الله تعالیٰ اونٹھ کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جانے کہاں پھینک دیں گے. پھر ایک بارش ہو گی جس سے کل زمین صاف اور شفاف ہو جائے گی اور ہر طرف ہریالی اور خوشحالی ہو گی.

صحیح مسلم میں نواس بن سماں کی روایت میں سراہت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسی علیہ اسلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہو جس سے ان مفسرین کی تردید ہو جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ یا منگول ترک جن میں سے ایک چنگیز خان بھی تھا یا روسی اور چینی قومیں یہی یاجوج ماجوج ہیں جن کا ظہور ہو چکا ہے یا مغربی قومیں انکا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں انکا غلبہ و تسلط ہے. یہ سب باتیں غلط ہیں کیوں کہ یاجوج و ماجوج کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں بلکہ قتل و غارت اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ مراد ہے جسکا مقابلہ کرنے کی طاقت ممکن نہیں.تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آخر میں لقمہ اجل بن جائیں گے.

Facebook Comments
Close