دلچسپ

دنیا کی پرسرار شیطانی کتاب ڈیولز بائبل یا شیطان کی کتاب

قارئین انسان کو جب زمین پر اتارا گیا تو ساتھ ہی انسان کو الله تعالیٰ کی جانب سے علم سے بھی نواز دیا گیا. اسی علم کی بناء پر انسان کو اشرف المخلوقات بنا دیا گیا اور نورانی مخلوق یعنی فرشتوں پر بھی فضیلت دی گئی.

ابلیس اور انسان کی جنگ تب سے ہی شروع ہو گئی تھی جب خدا نے شیطان کو حکم دیا تھا کہ وہ انسان کو سجدہ کرے اور انکار پر اس کو جنت سے نکال دیا گیا تھا. بعد ازاں انسان کی مزید ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل کی اور تب ہی سے انسان کہ علم اور کتاب سے رشتہ قائم ہوا. اس بات میں کوئی شک نہیں کے کتاب اسان کی بہترین دوست ہے لیکن جہاں ایک اچھی کتاب انسان کے روحانی نگہداشت کا ذریعہ ہے وہاں ہی ایک بری کتاب انسان کی تباہی کا موجب بھی بنتی ہے. شیطان نے انسان کو بھٹگانے کے لیے جہاں دوسرے ھتکنڈے آزمائے وہاں ہی اپنے پیروکاروں کے ذریعے برے علم کا سہارا لے کر انسان کو تباہ کرنے اور راہ راست سے بھٹکانے کا عمل بھی جاری رکھا. لیکن جب تک ہمارے پاس اللہ تعالی کے دیے ہوئے علم کی روشنی قرآن پاک کی صورت میں رہے گی، ہم شیطان کو اس کے ناپاک ارادوں میں ناکام کرتے رہیں گے.

آج کا آرٹیکل بھی ایسی ہی کتاب کے بارے میں ہے جو صدیوں سے اسرار کے پردوں میں چھپی ہوئی ہے. اس کتاب کو کوڈیکس گگاز (Codex Gigas) نام سے جانا جاتا ہے. اس کا شمار دنیا کی سب سے پراسرار اور حیرت انگیز کتابوں میں ہوتا ہے. کوڈیکس گگاز (Codex Gigas) کتاب نہ صرف اپنی ظاہری ساخت بلکہ اپنے اندر چھپائے رازوں اور پراسرار تاریخ کی وجہ سے بھی قبل ذکر ہے. اس کتاب کے لکھے جانے کا اہم مقصد آج تک راز ہی رہا. لیکن اس کے متعلق بتائے جانے والی اور اس میں لکھے گئے سفلی اور کالےعلوم اور شیطانی تصاویر کی بنا پر یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ اسے کس لکھوایا گیا تھا.

اس میں بنائی گئی شیطان کی عجیب و غریب اور کراہت آمیز تصاویر کی بنا پر اس کتاب کو ڈیولز بک (Devil’s book) یا ڈیولز بائبل (Devil’s bible) بھی کہا جاتا ہے. حیران کن بات یہ ہے کہ اس کتاب کی لمبائی 3 فٹ اور چوڑائی 20 انچ بتائی جاتی ہے اور اس کا وزن 74 کلوگرام ہے. اس کی لکھائی میں مختلف رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے جن میں نیلا، سرخ، پیلا، سبز اور سنہری رنگ شامل ہے. اس کے تمام صفحات, رنگوں کے حساب سے ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہے.دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کے صفحات میں 160 گدھوں کی کھالوں کا استعمال کیا گیا ہے.

اس کتاب کا زیادہ تر حصہ لاطینی زبان پر مشتمل ہے لیکن اس میں مختلف زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہے. اس میں سحر سفلی اور کالے علم کے ذکر کے علاوہ کچھ عجیب قسم کے منتر اور جادو کے بارے میں بھی لکھا گیا ہے. اس کے علاوہ زمین و آسمان اور چاند سورج کی تخلیق کی تصاویر اور جھنم کے عجیب و غریب خوفناک قسم کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں. ڈیولز بک میں جو شیطان دکھایا گیا ہے اس کے دو بازو اوپر اٹھا کر پھیلائیں گئے ہیں، تصویر میں اس کہ دھڑ انسان کی طرح بنایا گیا ہے لیکن ہاتھ اور پاؤں کسی پرندے کی مانند بنائے گئے ہیں، جن کے ناخن بڑے اور خون میں رنگے ہوئے ہیں اور پوری تصویر کچھ اس طرح سے دکھائی دیتی ہے جیسے وہ کسی کا شکار کر چکا ہو یا پھر کسی پر حملہ کرنے کی نیت رکھتا ہو. انتہائی دلچسپ و حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس شیطانی تصویر کے منہ میں دو زبانیں ہے اور دونوں منہ کے کناروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں اور یہ دونوں زبانیں اس کی بایمانی اور فطرت کو ظاہر کرتی ہے. اس کتاب کے بھی مختلف باب ہیں اور ہر باب میں ایک الگ موضوع کو بیان کیا گیا ہے جن میں کچھ حصے کالے علوم پر ہے اور کچھ میں فلکیات، یہودیوں کی تاریخ، بوہیمیا کی خانقاہوں کی تاریخ وغیرہ شامل ہے. دنیا کی تباہی کے اسرار بھی بیان کئے گئے ہیں. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کو کب اور کس نے لکھا، تو آپ کی آگاہی کے لئے بتاتا جاؤں کہ اس پراسرار کتاب کو پندرہ سو ترانوے میں ایک راہب نے ایک ہی رات میں لکھا تھا. لیکن اس قدر بڑی کتاب کو ایک ہی رات میں کیسے لکھا گیا اور کس کی مدد سے لکھا گیا. یہ باتیں اپنے اندر ایک پراسرار راز چھپائے ہوئے ہیں.

devils bible in urdu 1
تاریخ کے مطابق اس راہب کو خانقاہ کے کچھ اصولوں کے خلاف ورزی کی بناء پر دیوار میں چنوا نے کا حکم دیا گیا کیا تھا، اس راہب نے جان بچانے کے لیے ایک تجویز بھی دی کہ اگر اسے معاف کر دیا جائے تو وہ ایک ہی رات میں ایسی کتاب لکھ کر دے گا جس میں دنیا بھر کے علوم ہوں گے اور دنیا کی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہو گی. چناچہ اسے ایک رات کی مہلت دے دی گئی اس کتاب کو لکھنا شروع کیا لیکن کچھ حصے کے بعد ہی اسے اندازہ ہوگیا کتاب کو ایک ہی رات میں لکھنا ممکن نہیں ہے. تب اس نے کتاب لکھنا چھوڑ دی اور عبادت کرنا شروع کی، مگر یہ عبادت خدا کی نہیں بلکہ شیطان کی تھی. جس پر شیطان نے اس کے روح کے بدلے اس کتاب کو لکھنے میں اس کو مدد فراہم کی. اس کتاب کو مہیما کی لائبریری میں محفوظ کر دیا گیا.

اس کے بعد 1648 میں یہ کتاب سویڈیش آرمی کے ہاتھ لگی تب اس کتاب کو ایک مقامی لائبریری میں رکھ دیا گیا. حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب اس جگہ بھی زیادہ عرصہ نہ رہ سکی اور اس لائبریری میں آگ لگنے کے باعث کسی نے کھڑکی سے باہر پھینک دیا. اس کتاب کے علاوہ تمام کتابیں جل کر راکھ ہوگئے ہیں اور پھینکے جانے کی وجہ سے اس کا بھی کچھ حصہ ضائع ہوگیا. یہ شیطانی کتاب بہرحال محفوظ رہی.
اب کچھ حقائق جو اس کتاب کے بارے میں جاننے اور اس میں موجود شیطانی تصاویر اور علم کو دیکھ کر سامنے آتے ہے. ان میں سب سے اہم شیطان کا انسانی شکار ہے جو کہ اس کی تصویر کو دیکھ کر پتا چلتا ہے. اس کے بعد اہم چیز اس میں ظاہر دو زبانیں ہیں. جس سے مراد اپنے عہد سے پھرنا ہے اور عہد شکنی کو ظاہر کرتی ہے.

قارئین اس آرٹیکل کا مقصد آپ کو ڈیولز بک کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا. یہاں پر ایک بات واضح کرتا جاؤں جب تک آپ کا ایمان سلامت ہے اور قران مجید رہنمائی کے لئے پڑھ رہے ہیں تو تب تک شیطان آپ کا کچھ نہیں کر سکتا. کیونکہ یہ ایسی قوت ہے جو شیطان کو الٹے قدموں بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے. اس لئے نماز کا اہتمام کرے کیونکہ نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور یہی دو چیزیں شیطان کے ہتھکنڈے ہے انسان کو ورغلانے کے لئے.

یہ بھی پڑھیں: الملحمہ الکبرا یا ہرمجدون انسانی حیات کی آخری جنگ

Facebook Comments
Close